مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى رَجُلٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس آئے جو یہ کہہ رہا تھا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»
” اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔