مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوعیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے بہت زیادہ احسان کرنے والے ، اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے جلال اور اکرام والے ! ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے اللہ تعالیٰ کے اُس اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اُس اسم کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اگرچہ وہ ثقہ ہے ۔