مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ صَلِّ عَلَيَّ ، ثُمَّ ادْعُهُ " . ¤ ثُمَّ صَلَّى آخَرُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ تُعْطَهْ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : ثُمَّ صَلَّى آخَرُ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ مَقْبُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ . ¤سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا ، اس نے نماز ادا کی پھر اس نے کہا: اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے نمازی ! تم نے جلدی کی ہے ، جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرو ، پھر مجھ پر درود بھیجو اور پھر اس سے دعا کرو ۔ “ پھر ایک اور شخص نے نماز ادا کی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز ادا کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں مقبول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے آئیں گی ۔