حدیث نمبر: 17120
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا كَانَ يَخَافُ الْقَوْمُ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً - أَوْ أَشْرَفُوا عَلَى قَرْيَةٍ - أَنْ يَقُولُوا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِيهَا رِزْقًا ، قَالَ : كَانُوا يَخَافُونَ جَوْرَ الْوُلَاةِ ، وَقُحُوطَ الْمَطَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ سَالِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : لوگ کس بات سے خوف زدہ ہیں ؟ کہ جب وہ کسی بستی میں داخل ہوں ، یا جب کوئی بستی ان کے سامنے آئے تو وہ یہ پڑھ لیں : ” اے اللہ ! تو ہمیں اس میں رزق عطا فرمانا ۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : لوگوں کو حکمرانوں کے ظلم اور بارشوں کے قحط کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف قیس بن سالم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3130)»