مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى قَرْيَةً . باب: جب آدمی کوئی بستی دیکھے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ قَرْيَةً قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ” اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی اور اس میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔