مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى قَرْيَةً . باب: جب آدمی کوئی بستی دیکھے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ كَعْبًا حَلِفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ [ وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ] ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ وَأَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : کعب احبار نے اُن کے سامنے اُس ذات کی قسم اٹھائی ، جس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لئے دریا کو چیر دیا تھا کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ایسی بستی ملاحظہ فرماتے تھے ، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے ، تو آپ اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لیتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
” اے اللہ ! اے سات آسمانوں ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں ! اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین ! اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! بے شک ہم اس بستی کی بھلائی اور اس کے رہنے والوں کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ، اور اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر ، اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومروان اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔