مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا . باب: جب آدمی کسی جگہ پر پڑاؤ کرے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ حِمْصَ فَأَدَّانِي اللَّيْلُ إِلَى الْبَقِيعَةِ ، فَحَضَرَنِي مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَقَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْأَعْرَافِ : ( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَخْرِسُوهُ الْآنَ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ رَكِبْتُ دَابَّتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ اس بیان کرتے ہیں : میں ” حمص “ سے نکلا ، رات ایک ایسی جگہ پر آئی جو بے آب و گیاہ جگہ تھی ، وہاں زمین کی ( ان دیکھی ) مخلوق میرے پاس آ گئی ، تو میں نے سورہ اعراف کی یہ آیت تلاوت کی : ﴿ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ﴾ [الأعراف : 54]
” بیشک تمہارا پروردگار ، وہ اللہ ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ میں نے آیت کے آخر تک ، یعنی مکمل آیت تلاوت کی ۔
( راوی کہتے ہیں : ) تو اس مخلوق میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: اب تم صبح تک اس کی دیکھ بھال کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب صبح ہوئی تو میں اپنی سواری پر سوار ہوا ( یعنی اور وہاں سے روانہ ہو گیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔