حدیث نمبر: 17106
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الضَّالَّةِ أَنَّهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے گمشدہ چیز کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آدمی کو یہ کہنا چاہیے ( یا شاید یہ مراد ہو گا کہ گمشدہ چیز کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : )
«اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ» ” اے اللہ ! اے گم شدہ چیز کو واپس کرنے والے ! بھٹکے ہوئے کو راہ دکھانے والے ! گمراہی کے مقابلے میں تو ہدایت دیتا ہے ، تو اپنی قدرت اور اپنے غلبے کے ذریعے میری گمشدہ چیز واپس کر دے ، کیونکہ وہ تیری عطا اور تیرے فضل کا حصہ ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یعقوب بن ابوعباد مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (660) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13289)»