مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا عَثَرَتِ الدَّابَّةُ . باب: جب آدمی کا جانور ٹھوکر کھائے ، تو آدمی کیا پڑھے ؟
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ مَنْ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ ، فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُلْ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ; فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، تَعَاظَمَ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ : صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي ، وَإِذَا قُلْتَ : بِسْمِ اللَّهِ ، تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوتمیمہ ہجیمی ، اُن صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، جو سواری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا ، اُس گدھے کو ٹھوکر لگی ، تو میں نے کہا: شیطان برباد ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ نہ کہو : شیطان برباد ہو جائے ، کیونکہ اگر تم یہ کہو : کہ شیطان برباد ہو جائے ، تو شیطان خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے ، اور یہ کہتا ہے ، میں نے اپنی قوت کے ذریعے اسے گرایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اگر تم ” بسم الله “ پڑھ لو تو شیطان کا وجود اُس کے اپنے نزدیک چھوٹا ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ مکھی سے بھی چھوٹا ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔