مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ لِسَفَرٍ ، أَوْ رَجَعَ مِنْهُ . باب: جب آدمی سفر کے لئے نکلے ، یا جب سفر سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ لِسَفَرٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا ، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا ، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ»
” اے اللہ ! ایسا پہنچنا ہو ، جو بھلائی تک پہنچائے ، جو تیری طرف سے مغفرت اور رضامندی کی شکل میں ہو ، ہر قسم کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! سفر میں تو ہی میرا ساتھی ہے ، اور میری غیر موجودگی میں ، گھر والوں کا نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر ہمارے لیے آسان کر دے ، اور زمین کو ہمارے لئے لپیٹ دے ، اے اللہ ! میں سفر کی دقت اور واپسی پر ناگوار صورتحال کے سامنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔