مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ لِسَفَرٍ ، أَوْ رَجَعَ مِنْهُ . باب: جب آدمی سفر کے لئے نکلے ، یا جب سفر سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ . اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " . وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ : " [ آيِبُونَ ] تَائِبُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . ¤ وَإِذَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ : " تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا ، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَحْمَدَ : " آيِبُونَ " . وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا بَعْضَ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہونے لگتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ ۔ اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ»
” اے اللہ ! سفر میں ، تو ہی میرا ساتھی ہے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر کے دوران کسی کمی ، اور واپسی پر کسی ناپسندیدہ صورتحال کا سامنا کرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے لئے زمین کو سمیٹ دے ، اور سفر ہمارے لیے آسان کر دے ۔ “
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کا ارادہ کرتے تھے تو پھر یہ پڑھتے تھے : «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»
” ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ۔ “
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا ، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا»
” توبہ ہے ، توبہ ہے ، اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہے ، اور وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان سب حضرات نے امام أحمد کے مقابلے میں ایک لفظ ” رجوع کرنے والے “ زائد نقل کیا ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ طبرانی کی بعض اسانید کا معاملہ مختلف ہے ۔