مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْهُ . باب: جب آدمی بازار میں داخل ہو ، یا جب وہ وہاں سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ مِنْ سُوقِهِ أَنْ يَقْرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فَيَكْتُبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ ، وَأَبِي إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبِ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِيمَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ فِي الْبُيُوعِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے تاجروں کے گروہ ! کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ جب بازار سے واپس جاتا ہے تو قرآن کی دس آیات پڑھ لیا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر ایک آیت کے بدلے میں ایک نیکی نوٹ کر لے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن ثعلب اور ابواسماعیل مؤدب کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب ” البیوع “ میں اس بارے میں احادیث گزر چکی ہیں کہ جب آدمی بازار میں داخل ہو ، تو کیا پڑھے ؟