مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْهُ . باب: جب آدمی بازار میں داخل ہو ، یا جب وہ وہاں سے واپس آئے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17082
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَتَى سُدَّةَ السُّوقِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَخَيْرِ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سلیم بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بازار کے دروازے پر آئے اور انہوں نے یہ پڑھا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَخَيْرِ أَهْلِهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، وَشَرِّ أَهْلِهَا»
” اے اللہ میں تجھ سے اس ( بازار ) کی بھلائی اور اس ( بازار ) والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سلیم بن حنظلہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔