مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : أَصَابَنِي أَرَقٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قُلِ اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، أَنِمْ عَيْنِي ، وَأَهْدِئْ لَيْلِي " . فَقُلْتُهَا فَذَهَبَ عَنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے رات کے وقت ڈر لگتا تھا ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، أَنِمْ عَيْنِي ، وَأَهْدِئْ لَيْلِي»
” اے اللہ ! ستارے نکل آئے ہیں اور آنکھیں سو گئی ہیں ، اور تو زندہ ہے ، بذات خود قائم ہے ، اے زندہ ! اور بذات خود قائم ذات ! تو میری آنکھوں کو سلا دے اور میری رات گزار دے ۔ “
راوی کہتے ہیں ، میں نے یہ دعا پڑھی ، تو میری وہ کیفیت ختم ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔