کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17063
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ أَصَابَهُ أَرَقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ نِمْتَ ؟ قُلِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، أَوْ يَطْغَى ، عَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں پریشانی لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جنہیں تم سوتے وقت پڑھ لیا کرو ، تم یہ پڑھا کرو :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، أَوْ يَطْغَى ، عَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» ” اے اللہ ! اے سات آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے تمام زمینوں ! اور جو کچھ زمینوں نے اٹھایا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! تو اپنی ساری بری مخلوق کے حوالے سے مجھے پناہ دینے والا ہو جا ! کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف افراط کا مظاہرہ کرے یا سرکشی کرے ( یعنی ان کی سرکشی اور زیادتی سے مجھے محفوظ رکھنا ) ، تیری پناہ زبردست ہے اور تیرا اسم برکت والا ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن سابط نامی راوی نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 17064
وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : " كُنْ لِي جَارًا مِنْ جَمِيعِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَأَنْ لَا يُؤْذِيَنِي ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ضعیف سند کے ساتھ اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
«كُنْ لِي جَارًا مِنْ جَمِيعِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَأَنْ لَا يُؤْذِيَنِي ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” تو تمام جنات اور انسانوں سے مجھے پناہ دینے والا ہو جا ! کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف افراط کرے ، یا مجھے کوئی تکلیف پہنچائے ، تیری پناہ غلبے والی ہے ، تیری ثناء بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17064
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3839)»
حدیث نمبر: 17065
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كُنْتُ أَفْزَعُ بِاللَّيْلِ فَآخُذُ سَيَفِي فَلَا أَلْقَى شَيْئًا إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِي الرُّوحُ الْأَمِينُ " . فَقُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " . فَقَالَهَا فَذَهَبَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرُ الْمَدَائِنِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں رات کے وقت ڈر کے اُٹھ جاتا تھا ، اپنی تلوار پکڑتا تھا اور جو بھی چیز سامنے آتی تھی ، اُس پر تلوار مار دیتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جو روح الامین نے مجھے سکھائے ہیں ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا جو آسمان کی طرف جاتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی ہر چیز سے ، البتہ اُس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آئے “ اے رحمان ! “ ۔
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات پڑھنا شروع کیے تو اُن کی پریشانی ختم ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر مدائنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17066
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَجِدُ فَزَعًا بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ : "أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَزَعَمَ أَنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَكِيدُنِي ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَكَذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرتے ہوئے کہا: مجھے رات کے وقت ڈر لگتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ جنات سے تعلق رکھنے والے ایک عفریت نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی ، تو انہوں نے یہ پڑھا :
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ»
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی نیک اور گناہ گار اُن سے ماور ا نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے ، جو آسمان کی طرف جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں جاتی ہے ، اور جو اس میں سے نکلتی ہے اور رات کے فتنوں اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات اور دن کے آنے والوں سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن ! “ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، حسن بن علی معمری کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3838)»
حدیث نمبر: 17067
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ حَدَّثَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَهَاوِيلَ يَرَاهَا بِاللَّيْلِ ، حَالَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَلَاةِ اللَّيْلِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ لَا تَقُولُهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى يُذْهِبَ اللَّهُ ذَلِكَ عَنْكَ ؟ " . قَالَ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَإِنَّمَا شَكَوْتُ هَذَا إِلَيْكَ رَجَاءَ هَذَا مِنْكَ ، قَالَ : " قُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ " . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا لَيَالِيَ [ يَسِيرَةً ] حَتَّى جَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتْمَمْتُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى أَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ ، مَا أُبَالِي لَوْ دَخَلْتُ عَلَى أَسَدٍ فِي حَبْسَتِهِ بِلَيْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ڈراؤنے خوابوں کے بارے میں بتایا ، جو وہ رات کے وقت دیکھتے تھے ، اور وہ خواب اُن کے اور رات کی ( نفل ) نماز کے درمیان رکاوٹ بن جاتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خالد بن ولید ! کیا میں تمہیں اُن کلمات کی تعلیم نہ دوں ، جنہیں تم پڑھ لیا کرو ، تم انہیں تین مرتبہ پڑھ لو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے اس چیز کو رخصت کر دے گا ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے صرف اسی لئے کی ہے ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ سے اس کا کوئی حل مل جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اُس کے غضب اور اس کی سزا سے اور اس کے بندوں کے شر سے ، اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ “
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : کچھ دن گزرنے کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ نے مجھے جن کلمات کی تعلیم دی تھی ، وہ میں نے تین مرتبہ بھی نہیں پڑھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو مجھ سے دور کر دیا ، جو میں پہلے پاتا تھا ، اب مجھے اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ اگر میں شیر کی کچھار میں رات کے وقت داخل ہو جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17067
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (935)»
حدیث نمبر: 17068
وَعَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُنَيْشٍ التَّمِيمِيِّ - وَكَانَ كَبِيرًا : أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ ، يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ ، قَالَ : " مَا أَقُولُ ؟ " . قَالَ : قُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، وَذَرَأَ ، وَبَرَأَ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ ، قَالَ : فَطُفِئَتْ نَارُهُمْ ، وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
ابوتیاح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، وہ بڑی عمر کے فرد تھے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ابوتیاح نے دریافت کیا : جب شیاطین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ، تو اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اُس رات میں شیاطین مختلف نشیبی علاقوں اور گھاٹیوں سے اُتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے تھے ، ان کے درمیان شیطان موجود تھا ، جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا ، وہ یہ چاہتا تھا کہ اس آگ کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلا دے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ یہ پڑھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کیا پڑھوں ؟ انہوں نے کہا: آپ یہ پڑھیں :
« أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، وَذَرَأَ ، وَبَرَأَ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ »
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جس کو اس نے پیدا کیا ہے ، بنایا ہے ، وجود بخشا ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور ہر آنے والے کے شر سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کے آتا ہے ، اے رحمان ! “
راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن ( شیاطین ) کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17069
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : رَعَبَ - قَالَ جَعْفَرٌ : أَحْسَبُهُ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ وَجِلَ ، وَجَاءَهُمْ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَبَعْضِ أَسَانِيدَ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ” وہ مرعوب ہو گئے “ جعفر نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ( روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ پریشان ہو گئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اور ابویعلیٰ کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، طبرانی کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17069
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (419/3)»
حدیث نمبر: 17070
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ صُرِفَ إِلَيْهِ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْجِنِّ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ طُفِئَتْ شُعْلَتُهُ ، وَانْكَبَّ لِمَنْخِرِهِ ؟ قُلْ : أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُس رات میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف پھیر دیا گیا ، ایک جن آگ کا شعلہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا میں آپ کو ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جب آپ انہیں پڑھ لیں گے تو اس کا شعلہ بجھ جائے گا ، اور یہ نتھنوں کے بل گر جائے گا ، آپ یہ پڑھیں :
«أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ»
” میں کرم والے اللہ تعالیٰ کی ذات کی پناہ مانگتا ہوں اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، کہ کوئی نیک یا برا شخص ، اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو اُس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں بنایا اور پھیلایا ہے ، اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور رات اور دن میں آنے والوں کے شر سے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” صغیر “ میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6844) اخرجه احمد فى المسند (419/3)»
حدیث نمبر: 17071
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : أَصَابَنِي أَرَقٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قُلِ اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، أَنِمْ عَيْنِي ، وَأَهْدِئْ لَيْلِي " . فَقُلْتُهَا فَذَهَبَ عَنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے رات کے وقت ڈر لگتا تھا ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، أَنِمْ عَيْنِي ، وَأَهْدِئْ لَيْلِي»
” اے اللہ ! ستارے نکل آئے ہیں اور آنکھیں سو گئی ہیں ، اور تو زندہ ہے ، بذات خود قائم ہے ، اے زندہ ! اور بذات خود قائم ذات ! تو میری آنکھوں کو سلا دے اور میری رات گزار دے ۔ “
راوی کہتے ہیں ، میں نے یہ دعا پڑھی ، تو میری وہ کیفیت ختم ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17071
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4817)»
حدیث نمبر: 17072
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَنَّ رَجُلًا اشْتَكَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَحْشَةَ ، فَقَالَ : " قُلْ : سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [ جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ " فَقَالَهَا الرَّجُلُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ الْوَحْشَةَ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وحشت کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ» ” ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات ، جو بادشاہ ہے ، اور پاک ہے ، وہ فرشتوں اور روح الامین کا پروردگار ہے ، تو نے غلبے اور طاقت کے ذریعے آسمانوں اور زمین کو مغلوب کیا ہوا ہے ۔ “
اس شخص نے یہ کلمات پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی وحشت ختم کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1171)»
حدیث نمبر: 17073
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو إِلَيْهِ الْوَحْشَةَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَّخِذَ زَوْجَ حَمَامٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے وحشت کی شکایت کی ، تو آپ نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ کبوتروں کا جوڑا رکھ لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن جراح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف