مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ صُرِفَ إِلَيْهِ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْجِنِّ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ طُفِئَتْ شُعْلَتُهُ ، وَانْكَبَّ لِمَنْخِرِهِ ؟ قُلْ : أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُس رات میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف پھیر دیا گیا ، ایک جن آگ کا شعلہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا میں آپ کو ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جب آپ انہیں پڑھ لیں گے تو اس کا شعلہ بجھ جائے گا ، اور یہ نتھنوں کے بل گر جائے گا ، آپ یہ پڑھیں : «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ»
” میں کرم والے اللہ تعالیٰ کی ذات کی پناہ مانگتا ہوں اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، کہ کوئی نیک یا برا شخص ، اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو اُس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں بنایا اور پھیلایا ہے ، اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور رات اور دن میں آنے والوں کے شر سے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” صغیر “ میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔