حدیث نمبر: 17069
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : رَعَبَ - قَالَ جَعْفَرٌ : أَحْسَبُهُ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ وَجِلَ ، وَجَاءَهُمْ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَبَعْضِ أَسَانِيدَ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ” وہ مرعوب ہو گئے “ جعفر نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ( روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ پریشان ہو گئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اور ابویعلیٰ کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، طبرانی کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17069
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (419/3)»