مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُنَيْشٍ التَّمِيمِيِّ - وَكَانَ كَبِيرًا : أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ ، يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ ، قَالَ : " مَا أَقُولُ ؟ " . قَالَ : قُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، وَذَرَأَ ، وَبَرَأَ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ ، قَالَ : فَطُفِئَتْ نَارُهُمْ ، وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى . ¤ابوتیاح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، وہ بڑی عمر کے فرد تھے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ابوتیاح نے دریافت کیا : جب شیاطین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ، تو اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اُس رات میں شیاطین مختلف نشیبی علاقوں اور گھاٹیوں سے اُتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے تھے ، ان کے درمیان شیطان موجود تھا ، جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا ، وہ یہ چاہتا تھا کہ اس آگ کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو جلا دے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ یہ پڑھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کیا پڑھوں ؟ انہوں نے کہا: آپ یہ پڑھیں : « أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، وَذَرَأَ ، وَبَرَأَ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ »
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جس کو اس نے پیدا کیا ہے ، بنایا ہے ، وجود بخشا ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور ہر آنے والے کے شر سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کے آتا ہے ، اے رحمان ! “
راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن ( شیاطین ) کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا ۔