مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ حَدَّثَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَهَاوِيلَ يَرَاهَا بِاللَّيْلِ ، حَالَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَلَاةِ اللَّيْلِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ لَا تَقُولُهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى يُذْهِبَ اللَّهُ ذَلِكَ عَنْكَ ؟ " . قَالَ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَإِنَّمَا شَكَوْتُ هَذَا إِلَيْكَ رَجَاءَ هَذَا مِنْكَ ، قَالَ : " قُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ " . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا لَيَالِيَ [ يَسِيرَةً ] حَتَّى جَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتْمَمْتُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى أَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ ، مَا أُبَالِي لَوْ دَخَلْتُ عَلَى أَسَدٍ فِي حَبْسَتِهِ بِلَيْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ڈراؤنے خوابوں کے بارے میں بتایا ، جو وہ رات کے وقت دیکھتے تھے ، اور وہ خواب اُن کے اور رات کی ( نفل ) نماز کے درمیان رکاوٹ بن جاتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خالد بن ولید ! کیا میں تمہیں اُن کلمات کی تعلیم نہ دوں ، جنہیں تم پڑھ لیا کرو ، تم انہیں تین مرتبہ پڑھ لو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے اس چیز کو رخصت کر دے گا ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے صرف اسی لئے کی ہے ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ سے اس کا کوئی حل مل جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اُس کے غضب اور اس کی سزا سے اور اس کے بندوں کے شر سے ، اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ “
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : کچھ دن گزرنے کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ نے مجھے جن کلمات کی تعلیم دی تھی ، وہ میں نے تین مرتبہ بھی نہیں پڑھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو مجھ سے دور کر دیا ، جو میں پہلے پاتا تھا ، اب مجھے اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ اگر میں شیر کی کچھار میں رات کے وقت داخل ہو جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔