مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرِقَ أَوْ فَزِعَ . باب: جب آدمی نرم دل ( یعنی پریشان ) یا گھبراہٹ کا شکار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَجِدُ فَزَعًا بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ : "أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَزَعَمَ أَنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَكِيدُنِي ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَكَذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرتے ہوئے کہا: مجھے رات کے وقت ڈر لگتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ جنات سے تعلق رکھنے والے ایک عفریت نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی ، تو انہوں نے یہ پڑھا : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ»
” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی نیک اور گناہ گار اُن سے ماور ا نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے ، جو آسمان کی طرف جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں جاتی ہے ، اور جو اس میں سے نکلتی ہے اور رات کے فتنوں اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات اور دن کے آنے والوں سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، حسن بن علی معمری کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔