مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَإِذَا انْتَبَهَ . باب: جب آدمی اپنے بستر پر جائے ، یا جب بیدار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَارَةَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ؟ - كَأَنَّهُ يَرْفَعُهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ . اللَّهُمَّ نَفْسِي خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ، إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سائب بن مالک بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: کیا میں آپ کو کچھ کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ یوں لگا جیسے وہ ان کلمات کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہا ہے ، جب آپ رات کے وقت اپنے بستر پر جائیں ، تو یہ پڑھیں : «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ۔ اللَّهُمَّ نَفْسِي خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ، إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ»
” اے اللہ ! ہم نے اپنا آپ تیرے سپرد کر دیا ہے ، اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ہے ، اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا ہے ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ہے ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ہوں ، اے اللہ ! میرے وجود کو تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیری ملکیت ہے ، اس کی موت تیری ملکیت ہے ، اگر تو اسے موت دے گا ، تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اسے مؤخر کر دے گا تو ایمان کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔