حدیث نمبر: 17054
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَتَبَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَقَالَ : أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ : أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ " . ¤ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُهَا لِأَبِي مَيْسَرَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ بَاطِشٌ بِنَاصِيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابواسحاق ہمدانی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ کر دیا اور یہ بیان کیا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بارے میں حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جب تم بستر پر جاؤ تو یہ پڑھو : «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»
” میں کرم والے اللہ کی ذات کی ، اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے ، اے اللہ ! تو ہی قرض اور گناہ کو دور کر سکتا ہے ، اے اللہ ! تیرا لشکر پسپا نہیں ہوتا ہے ، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ۔ “
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ ابومیسرہ ہمدانی کے سامنے کیا ، تو انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت مجھے بیان کی ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے : ” اس چیز کے شر سے ، جس کی پیشانی کو تو نے گرفت میں لیا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف