حدیث نمبر: 17056
وَعَنْ صَفِيَّةَ وَدُحَيْبَةَ ابْنَتَيْ عُلَيْبَةَ : أَنَّ قَيْلَةَ بِنْتَ مَخْرَمَةَ كَانَتْ إِذَا أَخَذَتْ حَظَّهَا مِنَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي ، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي ، حَتَّى تَقُولَهَا مِرَارًا . ثُمَّ تَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى ، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً ، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ . ثُمَّ يَقُولُ : ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ ، ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ . ¤ ثُمَّ تَقُولُ : يَا بِنْتِي ، هَذِهِ رَأَسُ الْخَاتِمَةِ ، إِنَّ بَنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَتْهُ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ : "أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ خَادِمٍ ؟ " . قَالَتْ : بَلَى . فَأَمَرَهَا بِهَذِهِ الْمِائَةِ عِنْدِ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

علیہ کی دو صاحبزادیاں ، صفیہ اور دحیبہ بیان کرتی ہیں : سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا شام ہو جانے کے بعد جب بستر پر آتی تھیں ، تو یہ پڑھتی تھیں : «بِسْمِ اللَّهِ ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي ، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي»
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتی ہوں اور میں نے اپنا پہلو اپنے پروردگار کے لئے رکھ دیا ہے ، میں اپنے گناہ کی اس سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔ “
یہ کلمات وہ چند مرتبہ پڑھتی تھیں ، پھر یہ پڑھتی تھیں : «أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى ، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً ، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ»
” میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی اور اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتی ہوں ، وہ کلمات کہ کوئی نیک یا گناہ گار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا اس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں نازل ہوتی ہے ، اور اس کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے ، اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی چیزوں کے شر سے ، البتہ ان چیزوں کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتی ہیں ، میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہوں ، اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتی ہوں ، جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرنگوں ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کے غلبے کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز تواضع اختیار کیے ہوئے ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کی بادشاہی کے سامنے ہر چیز خشوع اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں ، تیرے عرش کے غلبے کی گرہوں کے وسیلے سے اور تیری کتاب میں سے رحمت کی آخری حد کے وسیلے سے ، اور تیرے بلند مرتبے کے وسیلے سے اور تیرے سب سے بڑے اسم کے وسیلے سے ، اور تیرے اُن مکمل کلمات کے وسیلے سے ، کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ( میں یہ سوال کرتی ہوں ) کہ تو مجھے ایسی مہلت دے ، جس میں رحم موجود ہو ، اور تو میرے ہر ایک گناہ کی مغفرت کر دے ، اور ہر غربت کو ختم کر دے ، اور ہر دشمن کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اور لباس کی ضرورت کے وقت لباس عطا کر دے اور قرض کو ادا کروا دے اور جو بھی معاملہ ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ہو ، وہ ہمیں عطا کر دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور اس کی پناہ لیتی ہوں ۔ “
پھر وہ خاتون 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور 34 مرتبہ «الحمد لله» پڑھتی تھیں ۔
پھر وہ خاتون یہ فرماتی تھیں : اے میری بیٹی ! یہ خاتمے کا سر ہے ( یعنی دن کے اختتام کا بنیادی طریقہ ہے ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تاکہ آپ سے کوئی خدمت گار حاصل کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو خدمتگار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ؟ ان صاحبزادی نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادی کو رات کے وقت سوتے ہوئے ان 100 کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12/25)»