مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَإِذَا انْتَبَهَ . باب: جب آدمی اپنے بستر پر جائے ، یا جب بیدار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ عِنْدَ النَّوْمِ ؟ " . حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، قَالَ : أَقُولُ : أَنْتَ خَلَقْتَ هَذِهِ النَّفْسَ ، لَكَ مَحْيَاهَا وَمَمَاتُهَا ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا ، وَإِنْ رَدَدْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَاهْدِهَا . فَعَجِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : تم لوگ سوتے وقت کیا پڑھتے ہو ؟ جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی باری آئی تو انہوں نے یہ کہا: میں یہ پڑھتا ہوں : «أَنْتَ خَلَقْتَ هَذِهِ النَّفْسَ ، لَكَ مَحْيَاهَا وَمَمَاتُهَا ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا ، وَإِنْ رَدَدْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَاهْدِهَا»
” تو نے اس جان کو پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی اور اس کی موت تیرے لیے ہے ، اگر تو اسے وفات دیدے تو اس کو عافیت عطا کرنا اور اس سے درگزر کرنا اور اگر تو اسے لوٹا دے تو اس کی حفاظت کرنا اور اسے ہدایت پر ثابت قدم رکھنا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلمات اچھے لگے ۔
یہ روایت امام بزار نے عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔