حدیث نمبر: 16977
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ أَصْحَابُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ اتنی بلند آواز میں یہ کلمات پڑھتے تھے کہ آپ کے اصحاب کو آواز سنائی دیتی تھی ، آپ یہ پڑھتے تھے : « اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً»
” اے اللہ ! تو میرے دین کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي»
” اے اللہ ! تو میری دنیا کو میرے لئے ٹھیک رکھنا ، جس میں تو نے میری زندگی بنائی ہے ۔ “
یہ کلمات بھی آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ »
” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں ، تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ کلمات آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
اے اللہ ! جسے تو عطا کرے ، اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے اور جسے تو عطا نہ کرے ، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش نفع نہیں دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف