حدیث نمبر: 16968
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضْجَعِهِ ، فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ سَعِيدٍ الرَّاوِي عَنْ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر غیر موجود پایا ( اندھیرے میں ) انہوں نے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹٹولا ، تو اُن کا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایام اس وقت سجدے کی حالت میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے : «رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا»
” اے اللہ ! تو میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا کر دے ، اور اسے پاک و صاف کر دے ، تو ہی اسے پاک و صاف کر سکتا ہے ، تو اس کا نگران اور اس کا مالک ہے ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کرنے والے راوی صالح بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (209/6)»