مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا . باب: نماز میں اور اس کے بعد دعا مانگنا
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي ذِاتِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَازِنِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وضو کا پانی لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، نماز ادا کی اور پھر یہ کہا: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي ذِاتِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي»
” اے اللہ ! تو میرے دین کو میرے لئے ٹھیک کر دے اور میری ذات میں ، میرے لئے گنجائش رکھ دے اور میرے رزق میں میرے لئے برکت رکھ دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عباد بن عباد مازنی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام طبرانی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔