مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا . باب: نماز میں اور اس کے بعد دعا مانگنا
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ ، وَإِذَا انْصَرَفَ الْمُنْصَرِفُ مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَقُلِ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : يَا وَيْحَ هَذَا ، أَعَجَزَ أَنْ يَسْتَجِيرَ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ ؟ ! وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَا وَيْحَ هَذَا ، أَعَجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ؟ ! وَقَالَتِ الْحُورُ الْعِينُ : أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ أَنْ يُزَوِّجَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ - وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب نماز کھڑی ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، اور جب نماز ختم کرنے والا شخص نماز ختم کر لیتا ہے ، اور وہ یہ نہیں کہتا ہے : «اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ»
اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما ، اور مجھے جنت میں داخل کر دے اور حورعین کے ساتھ میری شادی کروا دے ۔ “
تو فرشتے کہتے ہیں : اس کا ستیاناس ہو ! کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا ؟ کہ یہ جہنم سے اللہ کی پناہ مانگے اور جنت یہ کہتی ہے : اس شخص کا ستیاناس ہو ، کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگے اور حورعین یہ کہتی ہیں : کیا شخص اس بات سے عاجز آ گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگے کہ ” اللہ تعالیٰ اس کی شادی حورعین سے کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس سے پہلے یہ کتاب الصلوٰۃ میں گزر چکی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔