حدیث نمبر: 16962
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَتْ : كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَرُبَّمَا كَلَّمْتُهُ فِي الْحَاجَةِ فَلَا يُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ قَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَكُلَّمَا قَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده اسماء بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے رہتے تھے اور سورج نکلنے تک کوئی کلام نہیں کرتے تھے ، بعض اوقات میں کسی کام کے سلسلے میں انہیں مخاطب کر لیتی تھی ، لیکن وہ میرے ساتھ کوئی بات نہیں کرتے تھے ، میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد ، کسی کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے 100 مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا ، تو جب بھی وہ ایک مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا ، تو اس کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (96/22)»