حدیث نمبر: 16951
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الصُّبْحَ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ : يَعْنِي لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ [ وَمَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ] " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوعبدالرحمن سلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ صبح کی نماز ادا کر چکے تھے ، اور وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اُٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں ، تو یہ آپ کے لئے زیادہ مناسب ہو گا ، انہوں نے بتایا : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے اور پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے ، فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی اس کے لیے دعاء یہ ہوتی ہے : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اور جو شخص نماز کا انتظار کر رہا ہوتا ہے ، فرشتے اس کے لئے بھی دعا کرتے ہیں ، اور اس شخص کے لئے اُن کی دعا یہ ہوتی ہے : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3903)»