حدیث نمبر: 16950
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ ، إِذْ قَدَمَ بُرَيْدٌ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَعْثٍ بَعَثَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ إِيَابًا وَلَا أَكْثَرَ مَغْنَمًا مِنْ هَؤُلَاءِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَسْرَعُ إِيَابًا وَأَفْضَلُ مَغْنَمًا ؟ مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدٌ مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا نعیم بن سلامہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، اسی دوران آپ کی بھیجی ہوئی ایک جنگی مہم کا نمائندہ حاضر ہوا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے ایسی کوئی جنگی مہم نہیں دیکھی جو ان سے زیادہ جلدی واپس آ گئی ہو ، اور جسے ان سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! کیا میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف نہ کروں ، جس میں آدمی اس سے زیادہ جلدی واپس آتا ہے اور اُسے اس سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوتا ہے ، جو شخص صبح کی نماز باجماعت ادا کرے اور پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید ہے ، جو ابن علقمہ کا غلام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3092)»