مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعَصْرِ . باب: صبح مغرب اور عصر کی نماز کے بعد آدمی کیا کرے ؟
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْمَأْمُومِ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَزُورُ ابْنَةَ عَمٍّ لِي تَحْتَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَشَهِدْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْبَحَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ أَوْلَمَ ، فَأَتَى رَسُولُ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ أَصْبَحَ قَدْ أَوْلَمَ ، وَقَدْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قُلْتُ : لَا أَحْسَبُ إِلَّا قَدْ طَلَعَتْ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْلَعَهَا مِنْ مَطْلَعِهَا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ سِتْرًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ : قُومُوا فَأَجِيبُوا ابْنَ الزُّبَيْرِ . فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَابِ تَلَقَّاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَبْطَأْتَ عَنِّي فِي هَذَا الْيَوْمِ . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ أَجَبْتُكُمْ وَأَنَا صَائِمٌ ، قَالَ : فَهَهُنَا تُحْفَةٌ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تُحْفَةُ الصَّائِمِ الذَّرَائِرُ أَنْ يُغَلِّفَ لِحْيَتَهُ ، وَيُجَمِّرَ ثِيَابَهُ ، وَيَذْرُرَ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَدَامَ الِاخْتِلَافَ إِلَى الْمَسْجِدِ أَصَابَ آيَةً مُحْكَمَةً ، أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظَرَةً ، أَوْ عِلْمًا مُسْتَطْرَفًا ، أَوْ كَلِمَةً تَزِيدُهُ هُدًى ، أَوْ تَرُدُّهُ عَنْ رَدًى ، أَوْ يَدَعُ الذُّنُوبَ خَشْيَةً أَوْ حَيَاءً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ طَرِيفٍ الْحَدَّاءُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤عمیر بن ماموم بیان کرتے ہیں : میں اپنی چچا زاد سے ملنے کے لیے مدینہ منورہ آیا ، جو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھیں ، میں نے مسجد نبوی میں سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز میں شرکت کی ، اس دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا ولیمہ تھا ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قاصد آیا اور بولا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! سیدنا ابن زبیر کا آج ولیمہ ہے ، انہوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، تو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے دریافت کیا : کیا سورج نکل آیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میرا خیال ہے نکل چکا ہو گا ، انہوں نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کے طلوع ہونے کے مخصوص مقام سے اسے طلوع کیا ہے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے اپنے نانا ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص اور جہنم کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور ابن زبیر کی دعوت میں چلو ! راوی کہتے ہیں : جب ہم دروازے پر پہنچے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی دروازے پر اُن سے ملاقات ہوئی ، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! آج آپ کو میرے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، تو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے ، حالانکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور یہ تحفہ ہے پھر سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے اپنے نانا ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روزہ دار کا تحفہ خوشبو ہے کہ وہ اپنی داڑھی پر خوشبو لگائے اور اپنے کپڑوں پر خوشبو لگائے اور اسے پھیلا دے ۔ “ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! آپ یہ بات میرے سامنے دُہرا دیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے نانا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسجد میں آتا جاتا رہتا ہے ، وہ کوئی محکم آیت سیکھ لیتا ہے ، یا کسی منتظر رحمت کو حاصل کر لیتا ہے ، یا کسی علم کو حاصل کر لیتا ہے ، یا کوئی ایسی بات سیکھ لیتا ہے جس سے اس کی ہدایت میں اضافہ ہو جاتا ہے ، یا جو بات اس سے کسی بری چیز کو پرے کر دیتی ہے ، یا وہ شخص خشیت یا حیا کی وجہ سے گناہوں کو ترک کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف الحذاء ہے اور وہ متروک ہے ۔