مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعَصْرِ . باب: صبح مغرب اور عصر کی نماز کے بعد آدمی کیا کرے ؟
حدیث نمبر: 16948
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا كَانَ ذَلِكَ [ لَهُ ] حِجَابًا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَدُوقٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے نانا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہے ، تو یہ عمل اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ اپنے حافظے کے حوالے سے ضعیف ہے ، لیکن اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔