مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعَصْرِ . باب: صبح مغرب اور عصر کی نماز کے بعد آدمی کیا کرے ؟
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ أَجْلِسَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَأَنْ أُصَلِّيَ الْغَدَاةَ وَأَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَدٍّ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں صبح کی نماز کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک بیٹھ کر ( یعنی اللہ کا ذکر کرتا رہوں ) یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کر دوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سورج طلوع ہونے تک ، اللہ کی راہ میں دینے کے لیے گھوڑے تیار کرتا رہوں ۔ “ ان دونوں سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔