حدیث نمبر: 16918
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ تُصَلِّي فِي بَيْتِهَا فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا صَلَّيْتِ الْمَكْتُوبَةَ ، فَقُولِي : سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ ; فَإِنَّهُ يَقُولُ لَكِ : نَعَمْ ، نَعَمْ ، نَعَمْ ، ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا صَلَاةَ تُطَوُّعٍ فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ : أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر رہی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «الحمد لله» ، دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ، پھر تم جو چاہو ، سوال کرو ، اللہ تعالیٰ تم سے یہ فرمائے گا : جی ہاں ! جی ہاں ! جی ہاں ! ( یعنی میں نے تمہاری دعا کو قبول کیا ) وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں نفل نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3096) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4292)»