مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذْكَارِ عَقِبَ الصَّلَاةِ . باب: نماز کے بعد اذکار کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا ، فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ ؟ " . فَقَالَتْ : لِمَ رَدَدْتَ [ إِلَيَّ ] هَدِيَّتِي ؟ ! فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَنِيئًا لَكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ ، [ هَذِهِ ] بَرَكَةٌ عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا " . ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس میں سے گھی نکال لیں ، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو وہ برتن واپس کر دیا ، جب وہ خاتون واپس گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ برتن گھی سے بھرا ہوا ہے ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ اس خاتون نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ مجھے واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اس برتن میں سے اتنا نکالا کہ مجھے حیا آنے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے اُم مالک ! تمہیں مبارک ہو ، یہ وہ برکت ہے کہ جس کا ثواب اللہ تعالیٰ نے جلدی دیدیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ وہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سبحان الله» دس مرتبہ «الحمد لله »اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔