مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذْكَارِ عَقِبَ الصَّلَاةِ . باب: نماز کے بعد اذکار کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فُضِّلَ بِهِ أَغْنِيَاؤُهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِخْوَانُنَا صَدَّقُوا تَصْدِيقَنَا ، وَآمَنُوا إِيمَانَنَا ، وَصَامُوا صِيَامَنَا ، وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا ، وَيَصِلُونَ بِهَا الرَّحِمَ ، وَيُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَنَحْنُ مَسَاكِينُ لَا نَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ . فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مِثْلَ فَضْلِهِمْ ؟ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، تُدْرِكُونَ مِثْلَ فَضْلِهِمْ " . فَفَعَلُوا . ¤ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلْأَغْنِيَاءِ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَرَجَعَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالُوا : هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا فَعَلُوا مِثْلَ مَا نَقُولُ فَقَالَ : " ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ أَلَا أُبَشِّرُكُمْ ، فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . وَتَلَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ : ( وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ) ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ غریب مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : خوشحال لوگوں کو ان پر فضیلت عطا کی گئی ہے ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے بھائی ہماری طرح تصدیق کرتے ہیں ، ہماری طرح ایمان لائے ہیں ہماری طرح روزے رکھتے ہیں ، لیکن ان کے پاس اموال ہیں ، جن میں سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور جن کے ذریعے وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، جبکہ ہم لوگ غریب ہیں ، ہم ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جب تم وہ کام کر لو گے تو تم اس فضیلت تک پہنچ جاؤ گے ، جو ان لوگوں کو حاصل ہے ، تم لوگ ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ «الحمدلله» پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھو ، اور اتنی ہی مرتبہ «سبحان الله» پڑھو ، تو تم ان کی فضیلت کی مانند تک پہنچ جاؤ گے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ خوشحال لوگوں سے کیا ، تو خوشحال لوگوں نے بھی یہ عمل کرنا شروع کر دیا ، غریب لوگ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کے سامنے یہ صورتحال ذکر کی اور یہ کہا: ہمارے ان بھائیوں نے بھی اسی طرح پڑھنا شروع کر دیا ہے جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے اُسے عطا کر دیتا ہے ، اسے غریبوں کے گروہ ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ غریب مسلمان ، امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، جو ( نصف دن ) 500 سال کا ہو گا ۔ “
پھر موسیٰ بن عبیدہ نامی راوی نے یہ آیت تلاوت کی : «وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ» ( الحج : 47 ) ” اور تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال جتنا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔