حدیث نمبر: 16912
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَمُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ ، أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ ؟ قَالَ : بَلْ ظَاعِنٌ ، قَالَ : فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ ، وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ . قَالَ : "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ ، وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ ؟ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک شخص آ کر ٹھہرا ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ٹھہرو گے کہ ہم ٹھہرنے کا بندوبست کریں ، یا مسافر ہو کہ ہم زاد سفر کا بندوبست کریں ، اس نے کہا: بلکہ مسافر ہوں ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں زاد سفر دوں گا ، اگر مجھے اس سے زیادہ فضیلت والا زاد سفر دستیاب ہوتا تو وہ میں نے تمہیں دے دینا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! خوشحال لوگ دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے ہیں ، ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ، ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں ، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر پاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کے بارے میں نہ کروں ؟ کہ جب تم اسے کر لو گے تو تم سے پہلے کا کوئی فرد تم سے سبقت نہیں لے جا سکے گا ، اور تمہارے بعد والا کوئی فرد تم تک پہنچ نہیں سکے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اسی طرح کا عمل کر لے ، جو تم نے کیا ہو ، تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3095) اخرجه احمد فى المسند (196/5)»