حدیث نمبر: 16911
عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ ، بَعَثَ بِهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مَنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَرَحَيَيْنِ ، وَسِقَاءٍ ، وَجَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ذَاتَ يَوْمٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى أَشْكَتَيْتُ صَدْرِي ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ . فَقَالَتْ : وَأَنَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ . فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ ؟ " . قَالَتْ : جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ . فَقَالَ : مَا فَعَلْتِ ؟ قَالَتِ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ . فَأَتَيَا جَمِيعًا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي ، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ : قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكُمْ ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ ، وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ " . فَرَجَعَا ، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا ، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا ، وَإِذَا غَطَّتْ أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا ، فَثَارَا فَقَالَ : " مَكَانَكُمَا " . ثُمَّ قَالَ : "أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ؟ " . قَالَا : بَلَى . قَالَ : " كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ [ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] فَقَالَ : تُسَبِّحَانِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا ، فَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ ، مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ فَقَالَ : قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، [ نَعَمْ ] ، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ اخْتِلَاطِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تو ان کے جہیز میں ایک چادر ، چمڑے سے بنا ہوا ایک تکیہ ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، دو چکیاں ، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ! تمہیں اتنا کام کرنا پڑتا ہے کہ مجھے پریشانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو غلام دیے ہیں ، تم جاؤ ! اور ان سے کوئی خدمتگار مانگ لو ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آٹا پیستی ہوں جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! تم کس سلسلے میں آئی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کو سلام کرنے کے لئے آئی ہوں ، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی اور وہ ویسے ہی واپس چلی گئیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں پانی بھر کے لاتا ہوں ، جس کے نتیجے میں مجھے سینے میں تکلیف ہوتی ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں آٹا پیستی ہوں ، جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیدی اور گنجائش عطا کیے ہیں ، تو آپ ہمیں کوئی خدمت گار دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں تم لوگوں کو دے دوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں ، جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں ، مجھے اتنی گنجائش نہیں ملتی کہ میں اُن پر خرچ کروں ، میں ان غلاموں کو فروخت کر دوں گا اور ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا ۔ وہ دونوں واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اس وقت سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ، ان کا لحاف ایسا تھا کہ اگر سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، وہ دونوں اُٹھنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تم دونوں کے لیے اس چیز سے زیادہ بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کچھ کلمات ہیں ، جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں ہر نماز کے بعد ، دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «الحمد لله» اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھا کرو ! اور جب تم دونوں بستر پر لیٹے ہو تو 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد کبھی ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ابن الكواء نے اُن سے دریافت کیا : کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! اللہ تعالیٰ تمہیں تباہ کرے ، جی ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ( یعنی اُن کو پڑھنا ترک نہیں کیا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (838)»