مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . باب: ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ [ كَنْزٍ ] مِنْ كَنْزِ [ الْجَنَّةِ ] تَحْتَ الْعَرْشِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : " أَنْ تَقُولَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَلْجٍ : وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " . قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ؟ قَالَ : لَا إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْكَبِيرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ والے کلمے کی طرف نہ کروں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھو ! “ ۔ ابوبلچ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت و فرمانبرداری کی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کے الفاظ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! سورہ کہف میں یہ الفاظ ہیں : ﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ﴾ ( الكهف : 39 )
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہوا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانے کے ایک کلمے کی طرف نہ کروں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔