مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . باب: ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَأَرَادَ بَقَاءَهَا فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَجِيحٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے اور وہ اس نعمت کو باقی رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے کثرت کے ساتھ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا چاہیے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ ( الكهف : 39 )
” اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے ، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا: ؟ جو اللہ چاہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نجیح ہے اور وہ کذاب ہے ۔