مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . باب: ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِمَالِهِ هَكَذَا وَهَكَذَا " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں کسی جگہ پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( دنیا میں ) مال و دولت کے حوالے سے کثرت والے لوگ ، قیامت کے دن قلت والے ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے مال کے بارے میں اس اس طرح کرتا ہے ( یعنی اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اور ایسے لوگ کم ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ولا منجا من الله إِلَّا اليه» ( پڑھنا ) ۔ “ ( اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے صرف اسی کی پناہ لی جا سکتی ہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو عذاب نہ دے ، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اسے مختصر طور پر بھی نقل کیا ہے ، ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف کمیل بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔