مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . باب: ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16905
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَقَدْ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَاضْطَجَعْتُ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راوی کہتے ہیں ، میں اُس وقت صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد لیٹ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں مارا اور ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قَوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ( پڑھنا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن ابوشبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔