حدیث نمبر: 16898
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ ; فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ ، قَالَ : " وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ فَقَالَ : مُحَمَّدٌ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ : مُرْ أُمَّتَكَ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنی امت کو یہ حکم دیں کہ وہ کثرت کے ساتھ جنت میں پودے لگائے ، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور زمین کھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس میں پودے لگانے سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میرا گزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ تو جبرائیل نے بتایا : یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، انہوں نے مجھے سلام کیا اور مجھے خوش آمدید کہا: اور یہ فرمایا : آپ اپنی امت کو یہ حکم دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت حسب سابق ذکر کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3898) اخرجه احمد فى المسند (418/5)»