حدیث نمبر: 16897
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی طرف نہ کروں ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الَّا بِاللهِ پڑهنا» ۔ “ ”
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے , تاہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے حوالے سے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے روایات نقل کی تھیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (174/20) اخرجه احمد فى المسند (228/2)»