حدیث نمبر: 16896
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَيْلَةً حَقَّ عِبَادَتِهِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَعَ خُلُودِكَ ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَائِمًا لَا مُنْتَهَى لَهُ دُونَ مَشِيئَتِكَ ، وَعِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَتَنَفُّسِ نَفْسٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الصَّلْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْحَمْدِ فِي بَابٍ جَامِعِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ قَبْلَ هَذَا بِأَرْبَعَةِ أَبْوَابٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور انہوں نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ایک رات اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کریں ، جو اس کی عبادت کا حق ہے تو آپ یہ پڑھیں : «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَعَ خُلُودِكَ ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَائِمًا لَا مُنْتَهَى لَهُ دُونَ مَشِيئَتِكَ ، وَعِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَتَنَفُّسِ نَفْسٍ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، ایسی حمد جو تیرے ہمیشہ رہنے کے ہمراہ ہمیشہ رہے اور حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، جو دائمی ہو ، جس کی تیری مشیت کے علاوہ اور کوئی انتہاء نہ ہو ، اور وہ ( حمد ) ہر آنکھ جھپکنے کے وقت اور ہر سانس لینے کے وقت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن صلت ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حمد سے متعلق کچھ احادیث تسبیح و تحمید کے مجموعہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ، جو اس سے چار ابواب پہلے گزرا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف