مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ . باب: حمد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْقَوْمِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، وَبَرَكَاتُهُ " . فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " . فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى رَفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الِاسْتِفْتَاحِ فِي الصَّلَاةِ غَيْرَ هَذَا بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا ، اس نے کہا: ” «السلام عليكم ورحمته الله» “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا : ” «وعليكم السلام ورحمته الله و بركاته» “ جب وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے یہ کلمات پڑھے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ» ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، ایسی حمد جو زیادہ ہو ، پاکیزہ ہو ، اس میں برکت موجود ہو ، وہ ایسی ہو کہ ہمارا پروردگار اس طرح سے حمد بیان کرنے کو پسند کرتا ہو ، اور وہ حمد اُس کی شان کے لائق ہو ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے جو پہلے پڑھا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بارہ فرشتے اس کی طرف لپکے تھے ، اُن میں سے ہر ایک اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہ اس کو نوٹ کرے ، انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس کو کیسے لکھیں ؟ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر رب العزت کی بارگاہ میں چلے گئے ، تو پروردگار نے فرمایا : تم اسے اُسی طرح نوٹ کرو ، جس طرح میرے بندے نے کہا: ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نماز کے آغاز میں پڑھی جانے والی دعا کے بارے میں روایت نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ، اور وہ اس سے مختصر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔