مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ . باب: حمد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ ؟ " . فَسَكَتَ الرَّجُلُ ، وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ هَجَمَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَيْءٍ يَكْرَهُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هُوَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا صَوَابًا " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا قُلْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَ كَلِمَتَكَ أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ کلمات پڑھے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو کثرت والی ہو ، پاکیزہ ہو ، اُس میں برکت موجود ہو ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کلمہ کس نے پڑھا ہے ؟ وہ شخص خاموش رہا ، اس نے یہ سمجھا کہ شاید اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کون ہے ؟ اس نے ٹھیک بات کہی ہے ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے پڑھا ہے ، اور میں نے اس کے ذریعے بھلائی کی امید رکھی ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ تمہارے کلمے کی طرف لپکے ، اس لیے کہ اُن میں سے کون اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔