حدیث نمبر: 16867
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ - أَوْ كَمَا قَالَتْ - فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُ وَأَنَا جَالِسَةٌ ، قَالَ : " سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِيهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ ; فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ ، وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةً " . ¤ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَمْ يَقُلْ أَحْسَبُهُ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبِرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَدُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . فَقَالَ : " بَخٍ بَخٍ ، لَقَدْ سَأَلَتْ " . وَقَالَ : " خَيْرٌ لَكِ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ ، مُجَلَّلَةٍ ، تَهْدِيهَا إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَقُولِي : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِائَةَ مَرَّةٍ فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِمَّا أَطْبَقَتْ عَلَيْهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ ، وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ أَفْضَلُ مِمَّا رُفِعَ لَكِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتِ أَوْ زَادَ " . ¤ وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بوڑھی اور کمزور ہو گئی ہوں ( راوی کہتے ہیں : یا جو لفظ بھی انہوں نے استعمال کیے ) تو آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں ہدایت کیجئے ، جسے میں بیٹھ کر ، کر لیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک سو مرتبہ «سبحان الله» پڑھو ! یہ تمہارے لئے ایک سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا ، جنہیں تم سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آزاد کرو گی ، تم ایک سو مرتبہ «الحمد لله» پڑھو ! کیونکہ یہ ایک سو گھوڑوں کے برابر ہو گا ، جن پر زین بھی ڈالی گئی ہو اور لگام بھی ڈالی گئی ہو ، اور وہ تم نے وہ اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دیئے ہوں ، اور 100 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ! کیونکہ یہ تمہارے کے ” ہدی “ کے 100 اونٹوں کے برابر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈالا گیا ہو ، اور وہ مقبول ہوں ، اور تم ایک سو مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھو ۔ “
ابن خلف نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ آسمان اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا اور اس دن کسی کا کوئی عمل اوپر نہیں جائے گا ( یعنی جو تمہارے اس عمل کے برابر ہو ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اس کی مانند عمل کیا ہو ، جو تم نے کیا ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ، میرے خیال میں امام طبرانی نے یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے ، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، تم نے ( اہم یا اچھا ) سوال کیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی اس روایت میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : )
” یہ تمہارے لیے قربانی کے ان ایک سو اونٹوں سے زیادہ بہتر ہو گا ، جن کے گلے میں ہار ڈالے گئے ہوں“ جن پر کپڑے ڈالے گئے ہوں اور جنہیں تم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بھجوایا ہو ، اور تم ایک سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھو ! یہ تمہارے لیے ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے ، اور اس دن کسی بھی شخص کا کوئی ایسا عمل اوپر نہیں جائے گا جو اس عمل سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جو عمل تمہاری طرف سے اوپر جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے اتنی ہی تعداد میں یہ کلمات پڑھے ہوں ، جتنی مرتبہ تم نے پڑھے ہیں ، یا اس سے زیادہ پڑھے ہوں ۔ “
ان تمام روایات کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (344/6)»