مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ هَلَّلَ مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ . باب: جو شخص 100 مرتبہ ، یا اس سے زیادہ مرتبہ ’’ لا الہ الا اللہ “ پڑھے
وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي أَفْضَلَ الْكَلَامِ ، قَالَ : " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَةَ مَرَّةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، فَإِنَّكَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ النَّاسِ عَمَلًا ، إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابومندر جہنی رضی اللہ عنہ اللہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے سب سے زیادہ فضیلت والا کلام تعلیم دیجئے ! تو نبی اکرم میں ہم نے ارشاد فرمایا : اے ابومنذر ا تم یہ پڑھو : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، محمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے ، وہ موت دیتا ہے ، بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم روزانہ ایک سو مرتبہ اسے پڑھو ! تو تم اُس دن لوگوں میں عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت والے ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس نے تمہارے پڑھے ہوئے جتنا پڑھا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو باقی رہ جانے والی نیکیوں سے متعلق باب میں مکمل روایت مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔